طالبات سڑکوں پر ۔۔ مگر کیوں؟
تحریر:
ممتاز شگری
''

تعلیمی بہتری کے لئے متعلقہ اداروں کے سیکریٹری اور ہیڈ آف ڈیپارمنٹ سے کچھ گزارشات ٹیلی فونک ۔ واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے دی تھی۔ اور مختلف اخباروں میں کالموں کی صورت میں چھپے تھے۔ بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں جو سیاسی صورتحال گھمبیر ہے جس کی وجہ سے مختلف اداروں میں معاملہ اس حد تک پہنچےہے کہ معاملے کچھ مہینوں میں کورٹ کچہری تک پہنچیں گے۔ ہی بات آپ لکھ کر رکھ لے کہ اگلے کچھ مہینوں میں ٹیچر کی پوسٹنگ ہو یا ہیلتھ ڈپارمنٹ ہو یا دوسرے ادارے ہوں۔
میں نے حالیہ ایجوکیشن کے تبادلے میں صرف دو استادوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان میں سے ایک حسن صاحب جو چھورکا ہائی سکول میں سائنس ٹیچر تعینات تھے اور دوسرا سکندر علی صاحب ہے جو کہ تسر ہائی سکول میں سائنس ٹیچر تعینات تھے۔ ان دونوں کو نکال کے مختلف پرائمری سکولوں میں تبادلہ کیاگیا تھا۔ جب میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو ہمارے کچھ دوستوں نے کہا کہ اس میں کیا حرج ہے کہ ایک قابل ٹیچر پرائمری سکول میں جانے سے اس سکول میں بہتری آئے گی۔ میں آپ سے صرف یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ بہت فرق پڑے گا اس سائنس ٹیچر کی وجہ سے ہائی کلاسس کے طلبا متاثر نہیں ہوں گے؟ ان بچوں کا نقصان نہیں ہو گا؟ اگر آپ نے ریفارم لانے ہیں تو پھر ایک سکول سے نہیں اس کے لئے 103 سکول موجود ہیں ان سارے سکولوں میں ریفارم لانے ہوں گے۔ ویسے بھی کرونا کی وجہ سے ہمارے سکول متاثر ہوئے ہیں۔ اور پوسٹنگ کی وجہ سے بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔ یہ بات میں نے ڈایکٹر ایجوکیشن نبی شاہ صاحب جو کہ حال ہی میں پوسٹنگ ہوئی ہے۔ ان سے میں نے جب بات کی تو اس نے بولا کہ بیٹا ہم تو ٹرانسفر اور پوسٹنگ کرنا چاہتے ہی نہیں کیونکہ کرونا کی وجہ سے ہماری حالت بہت گھمبیر ہے۔ اس طرح ہم ٹرانسفر کرتے رہیں گے تو حالت معمول پر نہیں آئیں گے۔ تو اس وجہ سے ہم اس سال کوئی پوسٹنگ ہمارے ایجنڈے میں شامل نہیں۔
اب آتے ہے کچھ دنوں سے روڈ پر احتجاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک تو ہائی سکول الچوڑی کا معاملہ ہے۔ اس میں دو چیزیں سامنے آ رہے ہیں۔ ایک وہاں کے یوتھ پارلمنٹ ہے جو الچوڑی کے کچھ دوست چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارہ اہم مطالبہ یہ ہے کہ جو ہماری یہاں سیکنشنگ پوسٹ 21 ہیں ان میں سے 11 ٹیچر اس وقت فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس میں ہم نے خود مطالبہ کیاتھا کہ مذید دو ٹیچر دے دیں تاکہ ہماری تدریسی عمل رک نہ جائے۔ دو ٹیچر مذید دینے کی بجائے ہمارے اس گیارہ میں سے دو ٹیچر کو ٹرانسفر کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے یہاں تدریسی عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایک تو ہمارے 11 ٹیچر کے علاوہ مزید دو ٹیچر کا وعدہ کیا تھا وہ دے دیں۔
میں نے یہ سارے معاملہ ایجوکیشن ڈیپارمنٹ سے پوچھنے کی کوشش کی تو انہوں نے بتایا کہ ان نوجوانوں کے ہمارے ڈائریکٹر ایجوکیشن اور ڈی آئی ایس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ ہم چاہتے ہے کہ وہ تمام نوجوان ہم سے معافی مانگے۔ یہ تو انا والی بات ہے۔ اگر کسی نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی ہے تو واقعی بری بات ہے اور معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چائيے۔ ہر معاملہ ٹیبل ٹاک کے ذریعے سے حل ہو سکتے ہیں۔
دوسری بات چھورکا میں طالبات کی احتجاج کا ہے۔ گرلز ہائی سکول چھورکا جو کہ unaproved ہے. aproved مڈل سکول ہے۔ جس میں تقریبا 600 سے زیادہ سٹوڈنٹ ہیں۔ اور ان کے لئے صرف 11 ٹیچرز ہیں۔ اس گیارہ میں سے حال ہی میں ایک ٹیچر کا تبادلہ کیا تھا۔ یہ احتجاج کا معاملہ ایک دم سے نہیں ہوا جب سے ٹیچر کا تبادلہ کیا تھا تب سے یہ کہانی چل رہی تھی اور سکول انتظامیہ نے احتجاج نہیں ہونے دیا۔
کیونکہ حال ہی میں ایجوکیشن منسٹر نے سکول کا دورہ کیا تھا اور سسٹم کی تعریف کی تھی اور ہائیر سیکینڈری کلاسس چلانے کے لئے راجہ صاحب نے اعلان بھی کئے تھے۔ جب یہ سارے نظام اچھے چل رہے تھے اور سکول کی کارکردگی اچھی تھی تو پھر اچانک یہ سارے چیزیں ہونا ایک ذمہ دار ٹیچر اور اپنے فرائض سے زیادہ کام کرنے والے بندے کو عہدے سے ہٹانا بھی ایک زیادتی ہے۔
تیسری بات یہ ہے اس سکول میں تقریبا 10 ٹیچرز ہیں اور 600 بچیوں کو پڑھا رہے ہیں اس میں سے 4 ٹیچرز ایسے ہے جن کو ادارے ک طرف سے میڈیکل سرٹیفکٹ دیا ہوا ہے۔ اب آپ خود بتائے گا کہ مزید کتنے ٹیچر بچے؟ باقی بچے چھے ٹیچر اور چھے سو بچیوں کو کیسے پڑھائیں گے؟
باقی ایس ایم سی کا یہ کام نہیں ہے کہ اگر کوئی احتجاج ہو رہے ہیں تو لاعلمی کا اظہار کرے۔ ہی تو مکمل سیاست کی بات ہوئی نا۔ یہ آپ پہلے بتاتے ہیں کہ ٹیچر کی پوسٹنگ کا معاملہآگے بات کر کے آپ کو بتائیں گے دوسری بات آپ بات کرتے ہے کہ یہ معاملہ ہمارے ذہن میں نہیں تھا کہ بچیوں بھڑکا کے ۔ اکسا کے سڑک پر لائیں گے۔ بچیوں کا سڑک پر آ کر احتجاج کرنا ان کا حق ہے اگر یہ حق ادارے نہیں دے سکتے تو پھر کدھر جائے۔ ایس ایم سی کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان کی ضرورت کے ٹیچر لا کے دے دیں یا ادارے کی طرف سے ٹیچر کا انتظام کریں۔ اور خوش اسلوبی سے معاملے کو نمٹانے کی بات کریں۔ نہیں تو سڑکوں نکلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ گرلز ہائی سکول چھورکا میں 17 کلاسس ہیں اور اس کے لئے صرف 4 کمرے کا بلڈنگ ہے اب آپ خود بتائیں بچے کیسے پڑھیں گے۔
ہم ایجوکیشن کی بہتری کیلئے میڈیا پر باتيں کر رہے ہے تو کچھ دوست ان بکس آکر کہتے ہے کہ ایک مخصوص پارٹی کو ٹارگٹ کر رہے ہے۔ ارے بھائی خدا کے لئے ہمیں معاف کر دیجئے گا ہم کسی سیاست میں پڑنے والے لوگ نہیں ہے۔ ہم اس علاقے سے درد رکھتے ہے۔ یہاں سے ہم پلے بڑھے ہے یہاں سے ہماری پرائیمری ایجوکیشن ہوئی ہے۔ یہاں سے ہماری سیکنڈری ایجوکیشن ہوئی ہے۔ ہم اس علاقے کے ہم درد لوگ ہے۔ ہمیں کسی بھی سیاست میں آپ مت گھسیٹے۔ اگر ایجوکیشن ڈپارمنٹ خود سیاست کا شکار ہو رہے ہے تو اس میں ہماری کمزوری نہیں ہے۔ یہ آپ کی کمزوری ہے۔
اس سے پہلے ڈارئیکٹر ایجوکیشن سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے بولا تھا کہ میں شگر میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے آیا ہوں میں ہر سکول کا دورہ کروں گا ہر سکول کی بہتر نظام کے لئے تک و دو کرتا رہوں گا۔ یہ سارے چیزیں کہاں گئے؟ یہ آپ پرائمری سکول ٹیچر کو ہائی سکول میں اور ہائی سکول ٹیچر کو پرائمری سکول بھیج رہے ہیں یہ کون سا پروسس ہے۔ ہمیں سمجھا دیں یہ سارے رول میں لکھا ہوا ہے؟ جب ہم رول کی بات کرتے ہے تو آپ کہتے ہے کہ یہ سب ہمارے اختيار میں نہیں یہ سب اوپر سے ہو کر آتے ہے۔ یہ کون کر رہے ہے راتوں رات کوئی فرشتہ آکر کر رہے ہے؟
اگر آپ سے فرائض انجام نہیں ہو پا رہے تو عہدہ چھوڑ دیں اور ایجوکيشن ڈپارمنٹ سے چلے جائے۔ کسی کمپیٹنٹ بندے کی بیٹھا دیں۔ یہ کوئی گڑیا کا کھیل نہیں ہے کہ آپ سسٹم کو تباہ کر کے رکھ دے۔ '' یہ تمام گفتگو اعجاز شگری صاحب نے سوشل میڈیا کی سائٹ فیس بک پر لائیو سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہے تھے۔ یہ گفتگو کا آدھا حصہ ہے باقی آدھا حصہ کسی اور کالم میں شامل کریں گے۔ اعجاز صاحب کا انتائی مشکور ہوں جنہوں نے شگر ایجوکیشن کے حوالے سے حقائق ہم تک پہنچائے۔
0 Comments