اس سلسلے میں سب سے اہم دستاویز 1947 کا انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ (Indian Independence Act 1947) ہے جسے برطانوی پارلیمان نے منظور کیا اور جس کی توثیق شہنشاہ برطانیہ جارج ششم نے 18 جولائی 1947 کو کی۔ اس قانون کی ایک نقل پاکستان کے سیکریٹری جنرل چودھری محمد علی نے (جو بعدازاں پاکستان کے وزیراعظم بھی بنے) 24 جولائی 1947 کو قائداعظم کو ارسال کی۔
یہ قانون 1983 میں حکومت برطانیہ کی شائع کردہ دستاویز ’دی ٹرانسفر آف پاور‘ The Transfer of Power کی جلد 12 کے صفحہ 234 پر اور اس کا ترجمہ قائداعظم پیپرز پروجیکٹ، کیبنیٹ ڈویژن، حکومت پاکستان، اسلام آباد کے شائع کردہ ’جناح پیپرز‘ (کے اردو ترجمے) کی جلد سوم کے صفحہ 45 سے صفحہ 72 تک ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون میں واضح طور پر درج ہے۔
15 اگست 1947 سے برطانوی انڈیا میں دو آزاد فرماں روا مملکتیں قائم کی جائیں گی جو بالترتیب انڈیا اور پاکستان کے نام سے موسوم ہوں گی۔بعدازاں اس قانون میں 'ان مملکتوں' سے مطلب نئی مملکتیں اور 'مقررہ دن' سے مراد 15 اگست کی تاریخ ہوگی۔
ٹرانسفر آف پاور، جلد 12 کے صفحہ نمبر 234 پر اصل تحریر کچھ یوں ہے:
اس قانون کے تسلسل میں جاری ہونے والے چند اور احکامات ملاحظہ ہوں جن کے اقتباسات اور ترجمہ ضیا الدین لاہوری نے اپنے مضمون 'یوم آزادی: جمعتہ المبارک 27 رمضان یا 15 اگست' مشمولہ جریدہ 36۔ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی میں شامل کیا ہے۔
حکومت برطانیہ نے یہ اعلان تو کر دیا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایک ہی وقت، یعنی 15 اگست 1947 کو صفر ساعت پر آزاد ہوں گے مگر مسئلہ یہ ہوا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب نئی دہلی میں انڈیا کی آزادی کا اعلان کرنا تھا۔ منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنا تھا اور خود آزاد انڈیا کے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنا تھا۔
حکومت برطانیہ نے یہ اعلان تو کر دیا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ایک ہی وقت، یعنی 15 اگست 1947 کو صفر ساعت پر آزاد ہوں گے مگر مسئلہ یہ ہوا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب نئی دہلی میں انڈیا کی آزادی کا اعلان کرنا تھا۔ منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنا تھا اور خود آزاد انڈیا کے پہلے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنا تھا۔
مسئلے کا حل یہ نکالا گیا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن 13 اگست 1947 کو کراچی تشریف لائیں اور 14 اگست 1947 کی صبح پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انتقال اقتدار کی کارروائی مکمل کریں اور یہ اعلان کریں کہ اس رات یعنی 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب پاکستان ایک آزاد مملکت بن جائے گا۔
چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 13 اگست 1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن کراچی تشریف لے آئے اور اسی رات کراچی کے گورنر جنرل ہائوس میں ان کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جناح نے فرمایا:
'میں ملک معظم کی صحت کا جام تجویز کرتے ہوئے بے حد مسرت محسوس کرتا ہوں۔ یہ ایک نہایت اہم اور منفرد موقع ہے۔ آج انڈیا کے لوگوں کو مکمل اقتدار منتقل ہونے والا ہے اور 15 اگست 1947 کے مقررہ دن دو آزاد اور خود مختار مملکتیں پاکستان اور انڈیا معرض وجود میں آجائیں گی۔ ملک معظم کی حکومت کے اس فیصلے سے وہ اعلیٰ و ارفع نصب العین حاصل ہو جائے گا جو دولت مشترکہ کے قیام کا واحد مقصد قرار دیا گیا تھا۔'
جناح کی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا:
جناح کی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا:
"It is with feelings of greatest happiness and emotion that I send you my greetings. August 15 is the birthday of the independent and sovereign State of Pakistan. It marks the fulfilment of the destiny of the Muslim nation which made great sacrifices in the past few years to have its homeland."
ترجمہ: ’بے پایاں مسرت اور احساس کے جذبات کے ساتھ میں آپ کو تہنیت کا پیغام دیتا ہوں۔ 15 اگست آزاد اور خود مختار پاکستان کی پیدائش کا دن ہے۔ یہ مسلم قوم کی منزل مقصود کی علامت ہے جس نے پچھلے چند برسوں میں اپنے وطن کے حصول کے لیے عظیم قربانیاں پیش کیں۔‘
اپنے اس خطاب میں جناح نے پاکستان کے تمام شہریوں کو پاکستان کی خود مختار مملکت کے قیام کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ اس نئی مملکت کے وجود میں آ جانے سے پاکستان کے باشندوں پر زبردست ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اب انھیں دنیا کو یہ ثابت کر دکھانا چاہیے کہ کس طرح ایک قوم، جس میں مختلف عناصر شامل ہیں آپس میں مل جل کر صلح و آشتی کے ساتھ رہتی ہے۔
پاکستان کا یوم آزادی 15 اگست 1947 ہے۔ اس دن جمعتہ الوداع تھا اور اسلامی تاریخ 27 رمضان المبارک 1366 ہجری تھی۔ اپنا یوم آزادی 15 اگست 1947 کے بجائے 14 اگست 1947 قرار دینے سے نہ صرف ہم اپنے یوم آزادی کی تاریخ بدلنے کے مرتکب ہوتے ہیں بلکہ جمعتہ الوداع اور 27 رمضان المبارک کے اعزاز سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔
Copied ( بی بی سی اردو )



0 Comments