بلتستان بھر کی غذائی ضروریات کو شگر پورا کر سکتے ہیں۔

چمکتا دمکتا بہترین شگر شگر اللہ کی فضل و کرم اور مہربانی سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے شگر بین الاقوامی سطح پر شہرت رکھنے والا علاقہ ہے شگر سونے کی انڈہ دینے والی چڑیا ہے اللہ نے شگر کو ہر قسم کی نعمت سے نوازا ھوا ہے حال ہی میں پاکستان کو سیاحت کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا گیا ہے دنیا کے پہلے 50 بہترین سیاحتی مقامات میں سے 9 پاکستان میں ہیں جن میں سے ایک اپنا شگر ہے مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ سب کچھ ھونے کے باوجود آج شگر ترقی کی میدان میں سب سے پیچھے ہیں دنیا میں 8 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی کل تعداد 14 ہیں جن میں سے 4، کے-ٹو بڑاڈ پیک مشہ بروم 1 & 2 ایک ساتھ ایک جگہ پر بلتورو گلیشیر پر واقع ہیں یہ دنیا میں منفرد ہے دنیا میں7 ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں کی کل تعداد 135 سے زائد ہیں ان میں 60 سے زائد چوٹیاں بلتورو گلیشیر کے دونوں اطراف میں 2 لائنوں میں واقع ہیں یہ بھی دنیا میں کہیں اور نہیں ہیں دنیا کے سب سے اونچے راک ٹاورز مشتاق اور ٹرانگو بھی ایک ساتھ شگر میں واقع ہیں قطبین کے بعد دنیا کے سب سے بڑا گلیشیر بیافو (92 km) اور تیسرا بڑا گلیشیر بلتورو (68 km) سمیت 120 سے زائد چھوٹے بڑے گلیشیرز شگر میں واقع ہیں یہ پانی کے قدرتی ذخائر اور ڈیمز ہیں پاکستان کی اپنی سر زمین سے نکلنے والا دریا شگر میں انہی گیلشرز کے پانی شامل ہیں شگر میں کئی ٹریکنگ روٹس موجود ہیں تھلے لا غنڈو غورے اور پایو جو شگر کو تھلے ہوشے اور کندوس خپلو سے ملاتے ہیں اسطرح چھوترون سے طورمک روندو اور اروندو سے حراموش گلگت بھی ٹریکنگ روٹس موجود ہیں سب سے زیادہ خوبصورت خالص گلیشیٹڈ روٹ بیافو ہسپر ہے جو شگر کو ہنزہ نگر ہسپر کے ساتھ ملاتا ہے پچھلے سال روسی ٹریکنگ ٹیم نے بلتورو سے بتورہ گلیشر ہنزہ بھی ایک نیا ٹریکنگ روٹ کو دریافت کیا ہے اسکے علاوہ پایو سے براستہ مشتاق ٹاور شقسکم یارقند چائنہ ٹریکنگ روٹ بھی موجود ہے جوکہ ابھی بند ہیں شگر میں دو گرم پانی کے چشمے جربہ ژھو جھیل نیالی واٹر فال دنیا کا دوسرا بڑا کولڈ ڈیزرٹ وائٹ سینڈ دریائی کنارے اسکے علاوہ ہیں7 سو سال پرانی امبوڑک مسجد کے علاوہ 5 سو سال پرانی خانقا معلے ، شگر فورٹ لچہ کھر برالدو اور غوروچو کھر حیدر آباد تاریخی اہمیت کے حامل عمارتیں ہیں غوروچو اور لچہ کھر کے صرف آثار قدیمہ موجود ہیں میر پی ٹاپ نیالی نالہ سے کے ٹو بھی نظر اتے ہیں شگر غضواپا میں قدیم بون مذہب کے آثار قدیمہ بھی موجود ہیں بون مذہب کے دور میں کالی چٹانوں اور پتھروں پر بنائے گئے نقش و نگار آج بھی مخفوظ ہیں شگر میں سکینئگ پیرا گلاڈینگ رافٹنگ اور راک کالائمنگ کے لیے بہترین سائیڈس موجودہ ہیں 2017 دسمبر میں بین الاقوامی سکی پیلیلرز نے شگر باشے میں ہیلی سیکینئگ کا شاندار مظاہرہ کیا تھا اسکے علاوہ شگر میں ٹرافی ہٹننگ ایگل نسٹنگ اور ٹراوٹ فیشنگ کی افزائش نسل کے لیے موزون ترین جگہیں موجود ہیں ان قدرتی طور پر دستیاب وسائل کی وجہ سے شگر میں دنیا کا سب سے بڑا ٹوریسٹ انڈسٹری بن سکتا ہے نیپال کی سب سے بڑی زرائع امدن ٹورزم ہے شگر پاکستان کے لیے ذرائع امدن کا بڑا زریعہ بن سکتا ہے شگر قدرتی معدنیات سے بھی مالامال ہیں جیم سیٹون سونا ماربل زہرہ مہرہ کے علاوہ شگر میں ابرق زمرد کے وسیع ذخائیر موجود ہیں سننے میں آیا ہے کہ شگر میں پلوٹونیم اور یورنیم کے ذخائیر پائے جاتے ہیں اگر حکومتی سطح پر ان معدنیات کام کیا جائے تو یہ ذرائع آمدن بڑا ذریعہ بن سکتا ہے ان نعمتوں کے ساتھ شگر ایک زرعی علاقہ بھی ہے سرفہ رنگاہ سے لیکر حیدر آباد تک دریا کے دونوں اطراف واقع بیاسی کلومیٹر کا لمبا رانہہ ہزاروں ایکٹر کی بنجر زمین آج بھی غیر اباد ہیں ہر گاوں کے لیے اپنا چراہ گاہ کھیت اور کھلیان پھل فورٹ اور خوبانی کے درخت آج بھی شگر کی پہچان ہیں ان غیر اباد زمینوں کو آباد کرکے بلتستان بھر کی غذائی سبزیاں پھل فورٹ اور ڈیڑی ضروریات کو شگر پورا کر سکتا ہے ماضی میں بلتستان بھر کی غذائی ضروریات کو شگر پورا کرتے رہیں ہیں خوبانی کو ماوءٹین گولڈ بھی کہا جاتا ہے خوبانی سے دنیا کا بہترین کاسمیٹکس تیار کیا جاتا ہے خوبانی کا تیل بہترین کوکنگ آئل ہیں بلتستان بھر میں سب سے زیادہ خوبانی کے درخت شگر میں پایا جاتے ہیں شگر میں اگر بین الاقوامی سطح کی خوبانی کے پروڈکس کے لیے کوئی کارخانہ لگایا جائے تو اس بھی بڑی امدنی ھوسکتی ہے یہ اللہ کی ان گینت نعمتیں ہیں بلتی زبان میں امیر آدمی کو فیوکپو کہتے ہیں شگر والوں کو عقل و شعور آگاہی اور بیداری آجائے تو دو سے تین سال کے اندر ہی سب کے سب فیوکپو بن سکتے ہیں کیونکہ غیر اباد زمینوں کو آباد کرکے ہر گھرانہ فیوک پال سکتے ہیں اگر ایسا ھوجائے تو یہ میرا یقین ہے کہ شگر میں کسی کو بھی سرکاری نوکریوں کی ضرورت نہیں پڑے گا بد قسمتی سے اس وقت سب سے زیادہ بیروزگاری شگر میں ہیں اللہ شگر والوں کو عقل و شعور آگاہی اور بیداری دیں تاکہ یہ اپنے اور بچوں کی مستقبل کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے جائیں۔ غلامی میں نہ کام آتی ہیں تقدیریں نہ تدابیریں
0 Comments