اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو کس طرح حل کیا جائے گا یہ اہم سوال ہے۔

پہلی بات۔اگر گلگت بلتستان کو فرض کریں پاکستان صوبہ


 

بناتے ہیں تو عملی طور پر اگر ہم کسی صوبے کے خدوخال کو دیکھیں تو ناممکن ہے کیونکہ گلگت بلتستان کی آبادی کراچی کے ایک ضلع کے برابر بھی نہیں۔ لہذا کہیں شامل ہونا یا کسی علاقے کو شامل کرنا پڑے گا جو کہ یقینا گلگت بلتستان کے عوام کیلئے ناقابل قبول ہوگا۔

دوسری بات۔ اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قراردادیں اور پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے جس کے مطابق یہ خطہ ریاست جموں و کشمیر کی اکائی ہے اور اسی بنیاد معاہدہ کراچی ہوا تھا۔

تیسری بات۔ اگر ایسا ہوا تو معاہدہ کراچی کو کعلدم قرار دیکر پاکستان کے آئین میں ترمیم کی گنجائش نکالنی پڑے گی اور مظفر آباد حکومت کو ریاست جموں و کشمیر کی ترجمان حکومت ہے، کو اعتماد میں لینا پڑے گا۔ اگر ان کو اعتماد میں لیتا ہے تو کیا وہ چاہے گا کہ اپنے ملک کے ایک حصے کو بغیر کسی رائے شماری کے کاٹ دی جائے۔

چوتھی بات۔ ہندوستان بھی مہاراجہ کے الحاق کی بنیاد پر گلگت بلتستان اپنا حصہ قرار دیتے ہیں۔ لہذا کیا یہ ممکن ہے کہ ہندوستان خاموش رہے گا؟ بلکہ ہندوستانی میڈیا کے چیخنا چلانا شروع کردیا ہے۔

پانچویں بات۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر لداخ کے وہ لوگ جو پچھلے چہتر سالوں سے آذادی کے نعرے لگا کر آج تک لاکھوں جانیں قربان کر چکی ہے. اُن کی قربانی کا صلہ کس طرح دیا جائے گا ؟ کیا ایسا ممکن ہے کہ پاکستان ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر پر دعوے سے دستبردار ہوجائے؟۔