اس کی تاریخ بڑی دلچسپ ہے۔ اس کہانی کا آغاز جنوری 1947 کو ہوتا ہے جب عمان کے سلطان نے یہ محسوس کیا کہ ان کے ملک میں گوادر دور دراز اور بےآب و گیاہ علاقہ ہے جہاں کا انتظام برقرار رکھنا ان کی حکومت کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے خلیج فارس ریزیڈنسی بحرین نے حکومت انڈیا کے سیکریٹری کو خط لکھا، جس میں سلطان کی طرف سے ریاست قلات کو گوادر کی فروخت کے ارادے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
برطانوی حکومت چونکہ بہت پہلے سے ہی اس علاقے میں دلچسپی رکھتی تھی لہٰذا اس نے پیشکش پر غور کیا۔ لیکن اس وقت اس کے لیے دوسری عالمی جنگ دردِ سر بنی ہوئی تھی جس سے پہلے نمٹنا ضروری تھا۔ چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملے کو جنگ کے خاتمے تک ملتوی کر دیا جائے۔
.



0 Comments