سوال یہ ہے کہ آذادی کے بعد گلگت بلتستان کس طرح متنازعہ ہوگیا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر گلگت بلتستان میںعام طور پر اگہی نہیں ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان آذاد ہونے کے باوجود بھی متنازعہ ہوگیا تھا جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ اُس وقت شائد ریاست پاکستان کا یہی خیال تھا کہ اگلے چند ماہ میں رائے شماری ہوگی اورپاکستان ذیادہ ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ اُس وقت وزیر خارجہ برسٹرظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کو بھی متنازعہ خطے میں شامل کرکے دستخط کردی۔کچھ تاریخ دانوں کا یہ بھی خیال ہے کہ سر ظفر اللہ نے گلگت کی آذادی کا ذکر اقوام متحدہ میں چھیڑا بھی تھا لیکن تسلیم نہیں ہوئے اور مہاراجہ کے الحاق کی بنیاد پر جموں کشمیر میں قائم ریاستی حکومت کو قانونی تسلیم کیا اور رائے شماری تک کیلئے گلگت مظفر آباد لوکل اتھارٹی کا قیام چھے ہفتوں میں یقینی بناکر تمام تر اختیارات مقامی قیادت کے سپرد کرنے کو کہالیکن صرف مظفر آباد والے چونکہ سیاسی طور پر اُس وقت بھی طاقتور تھے،ریاستی نظام لینے میں کامیاب ہوئے ۔ آگے چل کر مظفر آباد اور ریاست پاکستان کے درمیان 28 اپریل 1949 کو ایک معاہدہ کراچی طے پایاجس کے تحت گلگت لداخ (آج کا بلتستان) کو ریاست کی ایک اکائی کے طور پر رائے شماری تک کیلئے تمام انتظامات وفاق پاکستان کو تفویض کردی ۔



0 Comments