گلگت بلتستان کے سیاسی یا انتظامی مستقبل کے حوالے


سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل چار باتوں کو ضرور مد نظر ضرور رکھیں ورنہ تاریخ ہمیں بھی وطن فروشوں میں شمار کرے گی ۔ (1)جو بھی نظام دیں اس سے کشمیریوں کی 90 سالہ جدوجہد آزادی اورقربانی متاثر نہ ہو، یعنی ہمارے عمل سے کشمیر ایشو پر بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے۔ (2)پاکستان کی کشمیرپالیسی کونقصان نہ ہو۔ (3) ریاست جموں وکشمیرکی وحدت کا خیال رکھا جائے ۔(4)فیصلہ گلگت بلتستان کےعوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔ ان چار باتوں کی گہرائی میں جائیں گے تو خطے کی پوری قانونی ، آئینی ، عالمی اور تاریخی پوزیشن واضح ہوگی ۔ اس لئے ان چار باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو بھی انتظامی یا سیاسی سیٹ حکومت دے گی سر آنکھوں پر۔