بعض احباب یہ سوال کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان ’’آئینی، عبوری، مشروط اور جزوی صوبہ ‘‘ نہیں تو پھر حل کیا ہے ؟ احباب اگر واقعی مخلص ہیں تو نہ صرف بہترین حل بلکہ مودی کے منہ پر طمانچے کا راستہ موجود ہے ۔ آزاد کشمیر در اصل ریاست جموں و کشمیر کی نمائندگی کر رہا ہے اور پاکستان کے آئین ، آزاد کشمیر کے عبوری آئین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے موقف میں یہی واضح ہے ۔ 24 اکتوبر 1974ء تک قائم ریاست جموں و کشمیر تین صوبوں یعنی (1) صوبہ کشمیر، (2)صوبہ جموں اور (3) صوبہ گلگت پر مشتمل تھی ۔پہلا حل آزاد کشمیر کو اسی پوزیشن پر لیکر جائیں ۔ صوبہ کشمیر کی نمائندگی آزاد کشمیر ،صوبہ گلگت کی نمائندگی گلگت بلتستان اور صوبہ جموں کی نمائندگی یہاں موجود مہاجرین جموں و لداخ کو دیں ۔ دوسرا حل ریاست جموں و کشمیر پاکستان کے زیر انتظام دونوں حصوں یعنی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو برابری کی بنیاد پر سیٹ آپ دیں، چاہئے وہ ایک انتظامی یونٹ کی شکل میں ہو یا دو انتظامی یونٹوں میں۔ اس سے ہٹکراگر 1846ء کے معاہدہ امرتسر ، 1935ء کے مہاراجہ انگریز معاہدہ ، میر آف ہنزہ و میر آف نگر کی مبینہ الحاقی پرچیوں ،اہلیان دیامر و حکومت کے معاہدے یا کسی چیز کو بنیاد بناکر کوئی نظام یا حل مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ خود کشی کے مترادف ہوگا۔



0 Comments