گلگت بلتستان اسمبلی کے پہلے انتخابات 2015 میں فوج کی نگرانی میں ہوئے تھے جن میں نواز شریف کی پی ایم ایل این نے واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی تھی۔ پی پی پی کے سینیر راہنما جمیل احمد پی ایم ایل این کی کامیابی کو اس وقت آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان سمجھوتے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'سی پیک کی وجہ سے فوج گلگت بلتستان میں ایک مستحکم حکومت چاہتی ہے اس لیے اس نے 2015 کے انتخابات میں اپنا وزن پی ایم ایل این کے پلڑے میں ڈالا تھا۔
'پچھلی مرتبہ دو شریفوں کے درمیان سمجھوتے کی وجہ سے پی ایم ایل این کو کامیابی ملی تھی۔'
انتخابی مہم کے دوران ایک دوسرے کی ساکھ خراب کرنے کے لیے سیاستدانوں کا اس طرح کے الزامات لگانا عام بات ہے۔ فوج کسی بھی جماعت کی طرفداری کے الزام کو ہمیشہ سے مسترد کرتی آئی ہے، البتہ مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے بالواسطہ اثر و رسوخ کے استعمال کا الزام اس پر لگتا رہا ہے، مگر بغیر کسی ثبوت کے۔
سینیر صحافی ایمان شاہ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کا خطہ عسکری لحاظ سے پاکستان کی سلامتی کے لیے ہمیشہ اہم اور مضبوط فوجی موجودگی کا متقاضی رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں رسائی سوائے فوج کے کسی کے لیے آسان نہیں ہے۔
وہ کہتے ہیں 'سیاسی شعور کی کمی کی وجہ سے مرکزی سیاستدان بھی خطے سے دور رہے ہیں، جس کی وجہ سے کسی تباہی اور آفت میں فوج ہی لوگوں کی مدد کو پہنچتی رہی ہے۔
'ظاہر ہے کہ ایسے میں سیاسی خلا کو فوج نے پر کیا ہے اور وہ ایک ناکارہ نظام کو چلانے کے لیے آگے آئی ہے۔'
سینیر صحافی عبد الرحمان اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کارگل کی جنگ کی مثال لیجیے جس میں لوگ فوج کی مدد و حمایت کو نکلے۔
وہ کہتے ہیں 'کارگل جنگ کے دوران میں نے رضاکاروں کو دیکھا کہ وہ بازاروں سے چندہ کرکے انھیں خوراک اور کمبل فراہم کر رہے تھے۔
'کارگل کے بعد جنرل مشرف نے اقتدار حاصل کیا تو انھوں نے گلگت بلتستان پر خصوصی توجہ دے کر لوگوں کی محبتوں کا صلہ لوٹایا۔ انھوں نے علاقے میں پہلی یونیورسٹی قائم کی، خطے کی سیاسی حیثیت کو بڑھایا اور غزر اور استور جیسے دور دراز علاقوں تک سڑکوں کا جال بچھایا۔
'مشرف کے دور میں ہونے والا ترقیاتی کام بے مثال ہے اور بہت عرصے تک لوگوں کو یاد رہے گا۔'
ایمان شاہ کا خیال ہے کہ عوام کے دلوں میں فوج کے لیے احترام ہے، اور یہ ہی وجہ ہے کہ وہ یہاں سیاست اور انتظامی اداروں پر اپنا اثر و نفوذ رکھتی ہے۔
وہ کہتے ہیں: 'لوگ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں بدعنوان ہیں اور فوج ہی سے لوگ کی امید بندھی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں واقعی جمہوری ہیں اور ان میں اخلاقیات ہیں تو انھیں اپنے بینروں پر آرمی چیف کی تصاویر لگانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔'
bbc report



0 Comments