تحریر: ابوالحسن شگری
1947ء سے 1969ء تک پاکستان کے تین صوبے پنجاب‘ سندھ اور این ڈبلیو ایف پی تھے۔
لیگل فریم ورک آرڈر 69 کے تحت 1969ء میں بلوچستان کو بھی صوبہ بنایا گیا مگر اس کے بعد سے تاحال کوئی نیا صوبہ نہیں بنایا جاسکا۔
دیکھنا یہ ہے کہ 1973ء کے آئین کے تحت نیا صوبہ کیسے معرض وجود میں آ سکتا ہے؟ اس کے لیے پہلے مرحلے میں جس صوبے میں نیا صوبہ بنانا ہے وہاں کی صوبائی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کی رضا مندی بعد ازاں قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
جب سیاستدان الگ صوبہ کا نعرہ لگاتے ہیں اور عوام اسے پذیرائی دیتے ہیں تو پھر زمینی حقائق سامنے آتے ہیں۔ نیا صوبہ ہو تو اس کا مکمل تجزیہ کرنا پڑتا ہے جس میں معیشت‘ جغرافیائی حیثیت‘ آمدن اور اخراجات کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔
جعرافیائی طور پر یہ گلگت بلتستان اپنے اطراف میں تین ممالک ( چین، انڈیا،تاجکستان اور افغانستان جن میں سے دو ایٹمی طاقتیں ہیں کے درمیان گھرا ہوا ہے۔ دنیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت چین کا ون بیلٹ ون روٹ منصوبے کے تحت چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اسی خطے سے گزر رہا ہے۔راہداری کے ذریعے چائنہ کو پاکستان سے ملانے کے لیے اس علاقے سے پانچ سو کلومیٹر سے زائد کا راستہ طے ہوگا۔
گلگت بلتستان کی حیثیت سی پیک تناظر میں بڑھ چُکی ہے جس پر چین اور امریکہ جیسےعالمی طاقتیں بھی نظر جمائے بیٹھے ہیں۔
گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کیلئے آئین پاکستان کے آرٹیکل ون، آرٹیکل اکیاون اور آرٹیکل 257اور 258 میں ترامیم کی جائیں گی۔
آئین پاکستان کا آرٹیکل ایک پاکستان کی جغرافیائی حدود کا تعین کرتا ہے۔ آرٹیکل ون کے مطابق پاکستان کے چار صوبے یعنی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان پر مشتمل ہے،آرٹیکل ون کے سب سیشن 3 کے مطابق مجلس شوریٰ یعنی پارلیمنٹ بذریعہ قانون وفاق میں نئی ریاستوں یا علاقوں کو ایسی قیود و شرائط پر داخل کر سکتی ہے جو وہ مناسب سمجھے۔
اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا جاتا ہے تو آرٹیکل ون میں ترمیم کی جائے گی جس میں پاکستان کے صوبوں میں گلگت بلتستان کا نام بھی شامل کیا جائے گا۔
آرٹیکل اکیاون قومی اسمبلی کی نشستوں اور صوبوں میں ان کی تقسیم کے حوالے سے ہے، آرٹیکل اکیاون کے تحت قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 342 مقرر کی گئی ہے۔
اگر جی بی کو قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جاتی ہے تو اس آرٹیکل میں ترمیم کرکے نشستیں بڑھانا ہوں گی۔ آئین کا آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے۔ جبکہ آرٹیکل 258 صوبوں سے باہر کے علاقہ جات کے نظم و نسق سے متعلق ہے۔یعنی وہ علاقے جو پاکستان کا حصہ تو ہیں لیکن کسی صوبے کے ساتھ نہیں۔
گلگت بلتستان اسی آرٹیکل کے ساتھ پاکستان میں شامل ہے اور گورننس آرڈر اسی آرٹیکل کے تحت یہاں نافذ ہے۔
کوئی بھی صوبہ بنانا ہو تو بڑی سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے لازمی ہے جو جلسہ ریلیوں اور جلوسوں میں نہیں بلکہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے فورم پر ہونا چاہیے۔
صوبے بننے سے فیڈریشن مضبوط ہو گی، شہریوں کو تحفظ ملے گا ا ور انہیں سہولیات کی فراہمی آسان ہوگی۔ صوبہ خودمختار ہوتا ہے، اس کا اپنا ہائیکورٹ ہو گا‘ خود ہی اپنی آمدن بڑھانا ہو گی لہٰذا جب وہ اپنے فیصلے خود کریں گے تو مزاج بھی تبدیل ہو جائے گا۔
بھارت نے نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار آسان کر دیا ہے۔ لوک سبھا میں صرف اکثریت کی بنیاد پر صوبے بنا لیے گئے۔ اب اس کے صوبے 11 سے 29ہو گئے ہیں۔ ہمارا طریقہ کار بہت دشوار ہے۔ تین ہاؤسز(صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینٹ) میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے جو بہت مشکل ہے ۔ ہمارے ہاں نئے صوبے کا مطالبہ آسان ہے مگر عملی اقدامات مشکل ہیں
جب قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان صوبہ کی بات ہو گی تو پھر کراچی صوبہ اور ہزارہ صوبہ کے ساتھ بہاولپور صوبہ کی بات بھی کی جائے گی۔ گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنانے کی بات ہوتی ہے تو اس کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق نمبر چار کے مطابق پاکستان کے کسی صوبے کی حدود میں ردو بدل، اُس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک کی شق نمبر دو میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے، جس کی خاطر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں الگ الگ دو تہائی اکثریت درکار ہے۔
اس وقت پی ٹی آئی کو سینیٹ میں اقلیت اور قومی اسمبلی میں قلیل اکثریت حاصل ہے۔
اگر پی ٹی آئی اس میں سنجیدہ ہوتی تو اس معاملے کے بقیہ مضمرات پر بھی بحث ہوتی۔ مثال کے طور پر سب سے بڑا معاملہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی نمائندگی کا ہے۔ اس وقت ہر صوبے کے 23 سینیٹر ایوان بالا میں موجود ہیں۔ اگر گلگت بلتستان صوبہ بنتا ہے تو کیا اس کے بھی 23 سینیٹر ایوان بالا میں ہوں گے یا اس کے آدھے ارکان ہوں گے۔
بات صرف یہ نہیں ہے۔ پاکستان جو اس وقت متعدد بحرانوں کا شکار ہے، اس وقت اس بحث سے ہزارہ صوبے، بلوچستان کی لسانی اعتبار سے تقسیم اور سندھ میں کراچی صوبہ بنانے کی خواہش رکھنے والوں کو بھی تقویت ملے گی۔ کیا پاکستان اس نئی محاذ آرائی کے لیے تیار ہے؟
آئینی صوبہ بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر سے متعلق جمع قرارداد میں اپنے اصولی موقف میں تبدیلی اور پارلیمنٹ میں آئینی ترمیم لانی ہوگی
گلگت بلتستان کا موجودہ رقبہ تقریباً خیبر پختونخوا کے برابر اور آزاد جموں کشمیر سے تقریباً چھ گنا بڑا یعنی اٹھائیس ہزار ایک سو چوہتر مربع میل پر مشتمل ہے۔
گلگت بلتستان، پاکستان کا وہ علاقہ ہے جو قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے جن میں ہیرے جواہرات میں تبدیل ہونے والے پتھر شامل ہیں۔ اس خطے میں گلیشیر اور پانی کے وافر ذخائر سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت تقریبا چالیس ہزار میگاواٹ ہے۔
ہندوستان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے الحاق کی بنیاد پر پوری ریاست جس میں جموں،وادی کشمیر،لداخ،اقصائے ،شگزگام،گلگت بلتستان اور آذاد جموں کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔جبکہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ ریاست جموں کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں بلکہ متنازعہ خطہ ہے اور اس خطے کے عوام نے رائے شماری کے ذریعے ریاست کی مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔
حکو مت پاکستان چاہتا ہے کہ سی پیک کے راستے کو محفوظ کیا جائے۔ اور اس حوالے سے ضروری ہے کہ مقامی لوگوں کے تحفظات کا ازالہ ہو اور اس علاقے پر سے سیاسی غیر یقینی کی کیفیت کو دور کیا جائے۔‘
سی پیک جیسا بڑاپروجیکٹ اسی علاقے سے شروع ہوتا ہے۔مکمل پاکستانی صوبہ بن جانے کے بعد چینی سرمایہ کاروں کوسرمایہ کاری کرنے کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی۔



0 Comments