شگر کی ترقی کا آسان ترین فارمولہ
شگر کے عوام کی ترقی کے لیے سیاست اور سابقہ روایات سے ہٹ کر ہر شگری کو غور و فکر کرنا ھوگا اگر سب شگری مچھ سے اتفاق کریں تو ان شا اللہ  اللہ نے چاہا تو چند سالوں میں شگر ترقی کی میدان میں سب سے آگے ھوسکتے ہیں شگر کے لیے کسی بھی پارٹی یا آزمائے ھوئے لیڈروں نے کچھ بھی نہیں کرنا ہے کیونکہ اکثر اپنے مفاد اور ٹھیکوں کی حصول کے لیے جان لگا رہے ہیں عوام کا درد صرف چند ایک کو ہیں  جب تک شگر کے عوام خود اپنے اندر تبدیلی کو لیکر نہ آئیں اور سیاسی پارٹیوں سے وابستگی کی بجائے شگر کونسل کا عمل قیام میں لا کر خود ہی عوام آپس میں اتفاق رائے سے قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر اپنے نمائندے کا انتخاب نہ کریں اس وقت تک شگر کی ترقی ممکن نہیں ہے اور اگر ھم شگریوں نے ایسا کیا تو ان شا اللہ اللہ کی مدد اور فضل و کرم اور مہربانی سے شگر پاکستان کا سنگاپور بن سکتا ہے اس مقصد کی حصول کے لیے ھم سب شگریوں کو ذاتی مفادات اور سابقہ روایات سے ہٹ کر شگر کی ترقی کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنانا پڑیں گے  ۔   
          اقتصادیات:
کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے سب سے اہم ترین چیز اسکی اقتصادی تعمیر و ترقی ہے کہ ہر گھر میں روزگار کے مواقع موجود ھوں سب جانتے ہیں ہر فرد کے لیے سرکاری نوکری کا حصول نا ممکن ہے اس لیے علاقہ شگر کے اندر ہی ہر فرد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہیں اللہ کا شکر ہے اللہ کے فضل و کرم اور مہربانی سے علاقہ شگر کے اندر یہ اہلیت اور اسطاعت دونوں بطریق احسن موجود ہیں کیونکہ اقتصادی ترقی ہی بہترین تعلیم صحت اور معیار زندگی کی ضمانت ہے اور آپ پیسے کی بل بوتے پر بہترین تعلیم صحت اور معیار زندگی اور دیگر سہولیات خرید سکتے ہیں    اللہ نے شگر کو بے پناہ نعمتوں سے نوازا ھوا ہے مگر اسکے باوجود صحیح معنوں میں قیادت و  نمائندگی اور عوام میں شعور آگاہی اور بیداری جیسے نعمت نہ ھونے کی وجہ سے شگر کے عوام ترقی کی میدان میں اج بھی سب سے پیچھے ہیں ماضی میں بلتستان بھر کو پالنے والا بہترین شگر کے عوام آج روزگار کی تلاش میں دوسرے علاقوں کے رخ کر رہے ہیں سب سے زیادہ  بیروزگاری آج شگر میں ہیں غیر شگر کی وجہ سے آج کڑورپتی بن چکے ہیں جبکہ ھم شگریرز دن بدن مفلسی کی طرف گامزن ہیں ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو اللہ کی مدد اور کرم کے بعد اگر 5 سالہ ADP سمیت دیگر دستیاب وسائل کو مندرجہ ذیل مقاصد کی  حصول کے لیے خرچ کریں گے تو یقین مانیئے شگر کے عوام کی تقدیر بدل جائے گا                     
     1۔فیوکپو ( امیر  )
بلتی زبان میں امیر آدمی کو فیوکپو کہتے ہیں فیوک جانور کو کہتے ہیں پو زیادہ شگر کا ہر باشندہ اللہ کی عطا کی ھوئی نعمتوں کی بدولت چند سالوں میں فیوک پو بن سکتے ہیں سرفہ رنگاہ سے لیکر حیدر آباد تک دریا کے دونوں اطراف میں واقع رنہہ جسکی لمبائی تقربیا 82 کلومیٹرز اور چوڑائی 2/3 سے کلومیٹر بنتے ہیں یہ ہزاروں ایکٹرز کی زمین  ہیں اسکے علاوہ ژھے تھنگ جربہ ژھو کیوق اور غورو کھر سمیت دیگر ہزاروں ایکٹرز کی زمین آج بھی بنجر اور غیر اباد  پڑے ھوئے ھیں حیدر آباد سے لیکر سرفہ رنہہ تک دریا شگر پر بند بنوا کر دریا کی پھیلاو کو محدود کر کے دونوں اطراف میں واقع رنہہ کو آسانی سے اباد کیا جا سکتا ہے دوسرا دریا برالدو اور باشے دونوں بلندی سے نیچے کی طرف بہہ رہے ہیں دونوں دریاوں سے کول نکال کر کیوق اور شگر سنٹر تک  ہزاروں ایکٹرز کے بنجرز زمین کے ٹکڑوں کو قابل کاشت رقبہ اور چراہ گاہ میں تبدیل کیے جا سکتے  ہیں ایک اندازے کے مطابق 33 ہزار ایکٹر سے زائد قابل کاشت رقبہ شگر میں اس وقت دستیاب ہیں اس اباد کاری سے شگر کی ہر گھرانہ کے لیے کم از کم ایک ایکٹر سے زائد زمین مل سکتے ہیں آبادی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے دستیاب زمین کم ھو رہے ہیں اس اقدام سے ہر گھرانہ کے افراد کے لیے گھر بنوانے اور روزگار دونوں کے لیے زمین دستیاب ھوگا اور ہر گھر اپنے لیے جانور بھی پال  سکیں گے لائیو سٹاک اور  ڈیری ڈیولپمنٹ بھی  ھوگی اور ڈیری پروڈکس میں بھی اضافہ ھوگا ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو اس طرح ہر گھر میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے روڈ بلڈنگ، ٹھیکہ اور دیگر سہولیات سے اہم ترین ترقی معاشرے میں ہر فرد کے لیے  روزگار کا حصول ہے  اور روزگار کی حصول کے لیے اسان ترین فارمولا ہے          
  
     2۔   50 بہترین سیاحتی مقام:
حال ہی میں پاکستان کو سیاحت کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک قرار دیا گیا ہے دنیا کے پہلے 50 بہترین سیاحتی مقامات میں سے نو پاکستان میں ہیں جن میں سے ایک اپنا بہترین شگر ہیں دنیا کے بلند ترین چوٹیاں بڑے بڑے گلیشیرز متعدید ٹریکنگ روٹس پانی کے گرم چشمے کولڈ ڈیزرٹ وائٹ سینڈ کے دریائی کنارے خوب و صورت قدرتی مناظر تاریخی عمارت اور مقامات شگر کی دنیا بھر میں منفرد پہچان ہیں شاید دنیا میں شگر کی طرح کوئی علاقہ موجود ھو جہاں پہاڑ دریا جھیل صحرا اور سرسبز و شاداب وادیاں تاریخی عمارت اور مقامات سب ایک ساتھ موجود ھوں شگر میں واقع کانگکارڈیہ Concordia دنیا کا واحد گلیشیڈ علاقہ ہے جہاں سے ایک ساتھ ایک ہی وقت میں دنیا کے بلند ترین بڑے بڑے چوٹیوں کا ایک ساتھ نظارہ کرسکتے ہیں میر پی ٹاپ نیالی سے ان تمام چوٹیوں کو دیکھا جاسکتا ہے غورچو کھر حیدر آباد سے بیک وقت پہاڑی چوٹیوں پر موجود  5 سے زائد چھوٹے چھوٹے  گلیشیرز کا بیک وقت نظارہ کر سکتے ہیں ژھے تھنگ بین الاقوامی پیرا گلاڈینگ کے لیے بہترین سائیڈ ہے 2017 میں عالمی سکی پیلیلرز نے باشے شگر سے سیکینئگ کا شاندار مظاہرہ کیا تھا ان قدرتی طور پر دستیاب وسائل کی وجہ سے شگر میں دنیا کا سب سے بڑا ٹوریسٹ انڈسٹری بن سکتا ہے ان شا اللہ اللہ نے چاہا اور ہم نے اجتماعی طور پر کوشش کیا تو ہم بہت جلد ملکی اور غیر ملکی وسائل کو لاکر شگر میں ٹوریسٹ انڈسٹری بنوا سکتا ہے  اس سلسلے میں ابتدائی کام کا اغاز موصوف نے اپنی مدد آپ کے تحت شروع کروایا ہے اس وقت شگر میں موجود ان وسائل سے صرف اور صرف چند باہر کے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں ہم انکے مزدور اور ملازم ہیں ان شا اللہ اس دستیاب وسائل کو قومی اور ملکی دھارے میں لا کر عوام اور ملک و قوم کی مفاد کے لیے استعمال کریں گے تاکہ شگر کی دولت اور سرمایہ شگر میں ہی رہے اور شگر والوں کی ترقی  پر خرچ ھوں          
                3۔ معدنیات
اللہ نے شگر کو بے پناہ قدرتی معدینات سے نوازے ھوئے ھیں شگر میں قمعتی نایاب معدنیات سمیت سونا آبرق زمرد ،یعقوت جیم سیٹونز ماربل اور زہرہ مہرہ کے ذخائیر موجود ہیں مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ باہر لوگوں نے کچھ مقامی لوگوں سے ملکر شگر میں 11 سے زائد مقامات کی لیزز حاصل کر لیے ہیں اور کچھ مقامات پر کام کا آغاز بھی ھوچکے پیں ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو ان معدنیات کو بھی شرط و شرائط کے ساتھ کسی بڑے ملکی ادارے کے حوالے کر کے حاصل ھونے والے آمدن کو علاقہ کی مفاد کے لیے قابل استعمال بنوائیں گے اس اقدام سے بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ھونگے اس سلسلے میں بھی بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے        
    
       4۔خوبانی:
خوبانی کو ماوءٹین گولڈ بھی کہا جاتا ہے دنیا میں بہترین کاسمیٹکس خوبانی سے تیار کی جاتی ہے اللہ کے فضل و کرم اور مہربانی سے پاکستان بھر میں  سب سے زیادہ خوبانی شگر میں پائے جاتے ہیں  اور شگر کی زمین خوبانی کی کاشت کے لیے بہترین ہے شگر میں اگر خوبانی کی کمرشل استعمال کے لیے کوئی کارخانہ لگاوایا جائے تو ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو نہ صرف شگر کی خوبانی کارآمد ھوجائے گا بلکہ ہر گھر میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ھونگے خوبانی کے پروڈکس کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایکسپورٹ بھی کر سکیں گے               
            5۔ زراعت :
زمین ماں ہے اور زراعت روز اول سے انسان کی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ رہے ہیں گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ قابل کاشت رقبہ شگر والوں کے پاس ہیں ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو زمین سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں نئی زرعی پالیسی متعارف کروانے ھوں گے یعنی زرعی زمین سے ہر بندہ کم از کم سال میں 2/3 فضل کاشت کی جاسکیں یہ بہت آسان ہے وقت آنے پر تفصیل بیان کروں گا کہ کسطرح چند کنال زمین سے ایک گھرانے کی کفالت بڑی آسانی کے ساتھ ممکن ھوسکتا ہے
   
    6۔ لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری پروڈکس۔
بلتستان بھر میں ڈیری پروڈکس یعنی دودھ مکھن اور گوشت کی ماہوار کھپت 2/3 کڑور سے زائد کا ہے شگر نہایت آسانی سے اس مارکیٹ پر قبضہ جما سکتا ہے شگر میں  سینکڑوں ایسے زمین دار موجود ہیں جو خود اپنا ذاتی ڈیڑی فارمز بنا سکتے ہیں اگر شگر میں دستیاب بنجر زمینوں کو آباد کیا جائے تو شگر میں تقربیا ہر گھرانہ اپنا ڈیڑی اور پولٹری فارمز  بنا سکے گا اسکے علاوہ شگر میں ٹرافی ہنٹینگ ( جنگلی حیات کی  افزائش نسل ) ، ایگل نسٹنگ ( شاہین کی افزائش نسل ) (ایک مارخور کی شکار سوا لاکھ سے زیادہ کا ہے اسطرح ایک شاہین کی قمیت 5 کڑور سے زائد کا ہے) شگر میں نہایت آسانی کے ساتھ ٹراوٹ مچھلی کی افزائش نسل اور کمرشل استعمال کے لیے بہت بڑے بڑے فارمز بھی بن سکتے ہیں یہ کام بھی لوگ خود ہی ذاتی طور پر کر سکتے ہیں اسطرح شگر میں موجود  دیگر وسائل پر سرمایہ کاری کر کے روز گار کے بہترین مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں ۔                
        7۔ فضول رسومات کا خاتمہ:
شگر میں آج بھی شادی بیاہ اور فودتگی سمیت دیگر مواقعوں پر فضول رسومات کی بھرمار ہیں کمائی کا زیادہ حصہ تعیلم صحت اور زندگی کے دیگر سہولیات پر خرچ ھونے کی بجائے ان فضول رسومات کی بجا آوری پر خرچ ھو رہے ہیں ان فضول رسومات کی علاقائی سطح پر عمائدین سے ملکر روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا یہ بھی وقت کہ اہم ترین ضرورت ہے              
             8۔ شگر میں قدرتی طور دستیاب زمین اور وسائل
شگر والوں کا ہی ہے ان شا اللہ اللہ نے چاہا اور شگر والوں نے کوشش کی تو ژھےتھنگ سمیت تمام بنجر زمینوں کے تنازعات کو حل کر کے ان دستیاب  زمینوں کو عوام  میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کر کے اباد کیا جا سکتا ہے
9۔ بین الاقوامی ٹورزم کے مواقع
بلتستان بھر میں شگر واحد علاقہ ہے جو سالانہ فیڈرل گورنمٹ کو بین الاقوامی ٹورزم یعنی کوہ پیمائی کی مد میں سالانہ کئی ارب روپے کا ریونیو دیتے ہیں مگر بدقسمتی سے موثر نمائندگی نہ ھونے کی وجہ سے شگر رائلٹی جیسے اپنے قانونی  حق سے اج تک محروم ہیں ان شا اللہ اللہ نے چاہا اور شگر کے عوام نے یک جان ھوکر کوشش کی تو اس رائلٹی کی حصول کے لیے قانون کے حدود کے اندر رہتے ہوئے کوشش کر کے رائلٹی کو حاصل کی جاسکتی ہے                     
       10۔ عوام سے مشاورت:
اس مقصد کی حصول کے لیے ہر گاوں اور یونین کونسلز کی سطح پر کمیٹیاں بنانے ھوں گے اور ہر ترقیاتی کام کمیٹی کی مشاورت سے کرنا ھوگا اور کمیٹی پر لازم ھوگا وہ کام کی معیار کو یقینی بنائیں اس کے لیے سب سے پہلے شگر سے فرسودہ سیاسی نظام کا خاتمہ کرنا ہوگا اگر ایسا ممکن ھوا تو  شگر کا ہر نظام ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو باقی علاقوں کے لیے رول ماڈل ھوگا شگر والو اپنے اور اپنے بچوں کی مستقبل کے لیے اکھٹے ھو جائیں تو ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو بہت جلد علاقہ شگر کی تقدیر بدل جائے گا اللہ کی مدد کے بعد آپ لوگوں کی تعاون سے ان شا اللہ اللہ نے چاہا تو یہ فوری طور پر ہی ممکن ہے آئیں  شگر کے عوام کی تقدیر کو بدلنے کے لیے کوشش کریں