وہ معاشرے جن کے سکولوں میں بچوں کو اساتذہ کی طرف سے جسمانی تشدد کا سامنا رہتاہے وہاں کی نسلیں جھوٹ کی عادت کے ساتھ بڑی ہوتی ہیں۔ اگر دوچار نسلیں ایسی بڑی ہوجائیں تو اگلی نسلوں میں یہ عادت خودبخود منتقل ہوجاتی ہے۔ کیونکہ سکول میں مار کے خوف سے بچہ ہمیشہ جھوٹ کا سہارا لیتا اور رحم کی اپیل کی جیسی لجاجت کا مظاہرہ کرتاہے۔ چونکہ سکول روزانہ جانا ہوتاہے چنانچہ یہ جھوٹ فطرتِ ثانیہ بننے کے مقام تک ہمارے بچپن سے ہی پہنچ جاتاہے۔ اس پر مستزاد والدین کی سختی اور انکے سامنے بولے گئے جھوٹ ہیں۔ ایسے میں جب جھوٹ جو بددیانتی کی سب سے بری شکل ہے،